Monday, November 2, 2020

Friday, October 9, 2020

NATIONAL PRESS CLUB PUNJAB: سحرانگیزصحرا،چولستان ،رپورٹ ایم اقبال انجم سے

NATIONAL PRESS CLUB PUNJAB: سحرانگیزصحرا،چولستان ،رپورٹ ایم اقبال انجم سے: سحر انگیزصحرا رپورٹ ایم اقبال انجم سے وطن عزیز پاکستان قدرتی حسن کی دولت سے مالا مال ہے ۔تھر،تھل اور چولستان ہمارے ملک کے عظیم صحرا ہیں۔چول...

Thursday, September 3, 2020

Saturday, December 30, 2017

2017: دنیا بھر میں 68 صحافیوں کا قتل


2017: دنیا بھر میں 68 صحافیوں کا قتل
انٹرنیشنل نیوز سیفٹی انسٹیٹیوٹ (آئی این ایس آئی) کے مطابق رواں سال 2017 میں دنیا بھر میں 68 صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کو قتل کیا گیا جن میں سے 9 خواتین بھی شامل ہیں۔
خیال رہے کہ 2016 میں 112 صحافیوں کا قتل کیا گیا تھا جن میں 3 خواتین شامل تھیں جبکہ 2015 میں 10 خواتین سمیت 101 صحافیوں کا قتل کیا گیا تھا۔
آئی این ایس آئی کے ڈائریکٹر ہنناہ اسٹورم کا کہنا تھا کہ گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران مردوں کے مقابلے میں عورتوں کے قتل کے سب سے زیادہ واقعات رونما ہوئے۔
2017 میں کچھ انتہائی اہمیت کی حامل قتل ہونے والی خواتین میں کم وال بھی شامل ہیں جنہیں قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو کوپن ہیگن میں سمندر کے کنارے پھینک دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ کرد صحافی شفا گردی، بھارت کی گوری لنکیش، میکسیکو کی جنگ میں ہلاکتوں پر رپورٹ کرنے والی میروسلاوا بریچ شامل ہیں۔
کارڈف اسکول آف جرنلزم کی کتاب 'کلنگ دی میسینجر' جسے آئی این ایس آئی نے ترتیب دیا کے مطابق رواں سال صحافیوں کے لیے 5 سب سے خطرناک ممالک میں افغانستان، میکسیکو، عراق، شام اور فلسطین کا نام شمار کیا گیا ہے۔
رواں سال صحافیوں کے قتل کے واقعات گزشتہ سال سے کم تھے تاہم 68 افراد میں سے 32 افراد کا ایسے ممالک میں قتل کیا گیا جنہیں پر امن قرار دیا جاتا ہے۔
ان ممالک میں میکسیکو، بھارت اور مالٹا شامل ہیں۔
زیادہ تر قتل کے واقعات مقامی صحافیوں میں رونما ہوئے جو وہیں رہتے اور کام کرتے تھے اور انہیں اپنی ہی زمین پر قتل کیا گیا تھا۔
رواں سال چار شہری صحافیوں کا قتل کیا گیا جن میں سے تمام کا تعلق شام سے تھا جہاں میڈیا نمائندوں کے لیے کام کرنا سب سے مشکل بتایا جاتا ہے۔
آئی این ایس آئی کے مطابق 9 واقعات کے ملزمان کی شناخت کرتے ہوئے انہیں حراست میں لیا گیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔
ہنناہ اسٹورم کا کہنا تھا کہ ہم اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوئے قتل ہونے والے ہر صحافی کو جنس، قومیت اور مذہب کی تفریق کے بغیر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رواں سال قتل ہونے والے 68 صحافیوں نے اپنے کام کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔

Monday, December 18, 2017

سحرانگیزصحرا،چولستان ،رپورٹ ایم اقبال انجم سے

سحر انگیزصحرا

رپورٹ ایم اقبال انجم سے


وطن عزیز پاکستان قدرتی حسن کی دولت سے مالا مال ہے ۔تھر،تھل اور چولستان ہمارے ملک کے عظیم صحرا ہیں۔چولستان جو پاکستان کا سب سے بڑا صحرا ہے۔ مقامی زبان میں اسے روہی کہتے ہیں ۔ زرتشتا کی مقدس کتاب ’’اوستا‘‘ میں درج ہے۔ خالق کائنات نے جن علاقوں کو انسانی آبادی کے لیے منتخب کیا ان میں چولستان کا خطہ بھی شامل ہے۔صحرائے چولستان کی لمبائی 480کلو میٹر اور چوڑائی 23سے 192کلو میٹر ہے ۔ضلع بھاولپور ،رحیم یار خان اور ضلع بھاولنگر کے علاقوں میں پھیلا ہوا ہے ۔ڈویژن بھاولپور کا جائزہ لیا جائے تو اس کا دو تہائی حصہ 6.5ملین ایکڑچولستان صحرا پر مشتمل ہے ۔ چولستان کی تہذیب5ہزار قبل از مسیح سے تعلق رکھتی ہے۔ دیوار چین کی تعمیر کے وقت چولستانی تہذیب 5ہزار سال گزار چکی تھی ۔اس وقت صحرائے چولستان میں 1500قبل از مسیح سے لے کر 5000قبل از مسیح کے آثار موجود ہیں ۔جن کی تعداد 407ہے ۔آج دنیا 21ویں صدی سے گزر رہی ہے لیکن چولستان اور اسکے باسیوں کی حالت نہیں بدل سکی ۔ ۔ضلع بھاولنگر کے چولستان میں 46کلو میٹر ،ضلع بھاولپور میں 214کلو میٹراور ضلع رحیم یار خان میں 117کلو میٹر پائپ لائنوںکے ذریعے چولستانیوں کو آب رسائی کی جارہی ہے لیکن آب رسائی کا یہ بڑا منصوبہ بھی چولستان کے 1/3حصہ کی ضرورت کو پورا کرتا ہے بقیہ چولستان کے لوگوں کا انحصار ٹوبوں اورکنڈوں میں موجود پانی پرہے ۔ ہزاروں سال سے چولستان میں زندگی پانی اور سبزے کے گرد گھوم رہی ہے۔زیادہ تر چولستانیوں اور ان کے مویشیوں کی زندگی کا انحصارقدرت باری تعالیٰ کی طرف سے ہونے والی بارشوںکے پانی پر ہوتا ہے ۔چولستان میں بارش نعمت عظمیٰ سمجھی جاتی ہے ۔بارش کا پانی چولستان میں موجود ٹوبوں اور کنڈوں میں محفوظ کر لیا جاتا ہے ۔ چولستان میں موسم گرما کی تیز دھوپ ٹوبوں کے پانی کی دشمن سمجھی جاتی ہے کیونکہ چولستان کا درجہ حرارت موسم گرما میں 50درجے سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جاتا ہے ۔ چولستان کی تعمیر و ترقی کے لیے 21 جولائی 1976کوچولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ بنایا گیا اور اس کے اغراض و مقاصد کا تعین کیا گیا ۔ چولستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی اپنے قیام سے لے کر آج تک اپنے مقاصد کے حصول میں لگی ہوئی ہے۔ناکافی فنڈز کی وجہ سے اپنی منزل سے یہ ادارہ بہت دور ہے۔بنجر زمین کو قابل کاشت بنانا ۔سرکاری زمین کی الاٹ منٹ ، میٹھے پانی کا سروے کرنا،آب پاشی کے لیے ٹیوب ویل کی تنصیب،چولستان میں نئے قصبے اور چکوک کی تعمیر، مویشیوں کی دیکھ بھال ،علاج معالجہ اور تعلیم کی سہولتوں کی فراہمی ،پارکوں کی تعمیر اور سیر و سیاحت کو فروغ دیناسی ڈی اے کے بنیادی مقاصد ہیں ۔اپنے محدود بجٹ سے سی ڈی اے کام کر رہی ہے لیکن بجٹ کا زیادہ تر حصہ کرپشن اور کمیشن کی نظر ہو تا رہا ہے۔ چولستان میں زندگی بہت مشکل ہے اکثر مقامات پر انسان اور جانور ایک ہی ٹوبے سے پانی پیتے ہیں ۔ چولستان میں پختہ مکان نہیں ہیں ۔گھا س پھوس کی جھونپڑیاں کثرت سے موجود ہیںجو اپنے مکینوںکو بارش سے بچا سکتی ہیں نہ ہی دھوپ کی شدت سے ۔دھوپ کی شدت میں چولستانی اپنے مویشیوں کو چراتے ہیں اور میلوں ان کے ساتھ پیدل سفر کرتے ہیں۔جہاں ایک بھی سایہ دار درخت نہیں ہوتایہ لوگ تمازت آفتاب سے خود بھی جلتے ہیں اور اپنے مویشیوں کو بھی جلاتے ہیں۔ ٭…٭…٭

Sunday, December 17, 2017

چولستان کی کہانی ایم اقبال انجم کی زبانی

کڑواسچ،چولستان کی کہانی ایم اقبال انجم کی زبانیہم رپورٹ جلد ہی منظرعام پر لائی جارہی ہے،،،،ایم اقبال انجم سے
Image may contain: 2 people, text
بہاول پور(بیورورپورٹ ایم اقبال انجم سے)بہاول پورجو کہ ایک ریاست تھی جس کا شمار اسلامی ریاستوں میں بہت بڑی ریاست کے نام سے ہوتاتھاجب پاکستان بناتونواب آف بہاول پورنے ریاست کو بہاول پورمیں ضم کردیا مگر ایک شرائط بھی رکھی گئی کہ بہاول پور صوبہ ہوگا
آج پاکستان کو بنے ہوئے سالہاسال گزررہے ہیں مگر بہاول پور کی صوبائی حثیت تاحال بحال نہ کی گئی ہے افسوس کہ بہاول پورصوبہ تو بحال نہ ہوامگرایک ریاست پسماندہ ضرورہوگئی بہاول پورجوکہ تین اضلاع پر مشتمل ہے ایک ڈویثرن تک محدودہوچکا ہے ضلع رحیم یارخان ،ضلع بہاولنگر،اورضلع بہاول پور بیک ورڈ علاقوں میں شمار ہوتے ہیں بہاول پورمیں چولستانی علاقہ 65لاکھ 55ہزار365ایکڑ اراضی تک پھیلاہوایے صحراء تمام ترسہولیات سے محروم ہے چولستان میں کسی دور میں دریاء ہاکڑہ اوردریاء گھاگھرابہتاتھا اب ان کے نشانات بھی ختم ہوچکے ہیں ہرطرف ریت ہی ریت ہے جہاں پر دوردورتک پانی کا نام ونشان بھی نہ ہے چولستان میں تقریبا50قریب تاریخی قلعے تھے جوحکومتی عدم توجہی کی بناء پرمسمار ہوچکے ہیں جن میں صرف قلعہ ،ڈراور،قلعہ موج گڑھ،قلعہ،مروٹ،قلعہ اسلام گڑھ،اور قلعہ دین گڑھ کے نشانات باقی ہیں چولستان میں عرصہ دراز سے کچھ قومیں بھی اپنے جھونپڑے بناکر آباد ہیں چولستان میں ٹوبے بناکربارش کا پانی اکٹھا کرتے ہیں اور اپنے مویشی پال کر یے لوگ گزربسر کرتے ہیں،حکومت نے چولستانی کی ترقی کیلئے محکمہ چولستان ترقیاتی ادارہ کے نام سے ایک ادارہ بھی بنارکھا ہے جیسے ایک ایم ڈی کنٹرول کرتا ہے اس کا عملہ کافی ملازمین پر مشتمل ہے چولستان ترقیاتی ادارہ کوہرسال اربوں روپئے ورلڈ بنک اور ایشاترقیاتی بنک دیتا ہے جو حکومت پنجاب سے ہوکر یے فنڈز یہاں پہنچتے ہیں یے فنڈز چولستان میں چولستانی باشندوں کو میٹھا پانی مہیاء کرنے اور سڑکیں بجلی سمیت ان کو زندگی کی ہر سہولیات فراہم کرنے کیلئے دیے جاتے ہیں مگر یے چولستانی باشندوں کی بدقسمتی کہ لیں کہ چولستان ہرسہولیات سے محروم ہے اور اربوں روپئے کے فنڈ حکومتی کارندے چولستان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے سازباز کر کے خردبرد کر لیے جاتے ہیں ،حقائق یے ہیں کہ چولستان ترقیاتی ادارہ نے کالے پاڑ سے لے کر ایک پختہ سڑک قلعہ موج گڑھ تک تعمیر کرائی جس کی لمبائی 30کلومیٹر تک ہے اس پر 95کروڑ روپئے خرچ کرنے کا سی ڈی اے نے دعویٰ کیا ہے ،اسی طرح خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنے سابقہ ادوار میں چولستانی باشندوں کے مویشیوں کو خوراک مہیاء کرنے کیلئے 15لائیواسٹاک فارمز کی منظوری دی ایک فارم پر 10/9کروڑ تک کے فنڈز خرچ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ایک قلعہ موج گڑھ پر 30مربعہ اراضی پر لوہے کی باڑ لگا کر چار پانچ کمروں اور چار شیڈ پر تعمیر ہونے والا لائیواسٹاک فارم پر9کروڑ روپئے کی لاگت آئی فارم تو بن گئے مگر نہ تو وہاں پر عملہ ہے اور نہ ہی مویشی ہیں ،اسی طرح ،چاپو والا،سالم سر،سمیت چولستان میں بنائے جانے والے فارم تباہی کے دہانے تک پہنچ چکے ہیں ان پر منظورہونے اربوں روپئے کے فنڈز بھی ہڑپ ہوچکے ہیں آج تک ان فارموں کی کوئی تحقیقات سامنے نہ آئی ہے ،ادھر چولستان کی ہزاروں ایکڑاراضی پر لینڈ مافیاء ممبران صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی آشیرباد سے قابض ہوچکے ہیں اس موقع پر یزمان جانووالی کے نمبردار وں کے چیئرمین میاں عبدلحمید بھٹی شیرچولستان نے بتایا کہ لنیڈ مافیاء آئے روزیہاں کے چولستانی باشندوں کے مویشیوں کو چوری کرلیتے ہیں اور زبح کرکے کھاجاتے ہیں بعض مویشیوں کو گولی مارکرہلاک بھی کردیتے ہیں لینڈ مافیاء کے پاس خطرناک ناجائزاسلحہ اور اشتہاری جرائم پیشہ لوگ موجود ہیں ان لوگوں نے چولستان ،ٹھنڈی کھوئیاں،جانووالی،قلعہ موج گڑھ،سمیت متعددجگہوں پر ٹربائن،ٹیوب ویل لگارکھے ہیں جو شمسی توانائی کی پلیٹیں لگا رکھی ہیں ،میاں عبدالحمید بھٹی نے مزید بتایا کہ چولستان میں میٹھے پانی کی فراہی کیلئے نصب کیئے جانے والی پائپ لائن جگہ جگہ سے پھٹ گئی ہے ،کڈ والا سے موج گڑھ کو جانے والی پائپ لائن صرف دوکلومیٹر کے فاصلے سے جانووالی سے گزرتی ہے مگر آجتک جانووالی کو میٹھا پانی فراہم نہ ہوسکا ہے ہم نے بار بار جار وفود کی صورت میں ایم ڈی چولستان وسیم انورخان کو بتایا ہے مگر کوئی شنوائی نہ ہورہی ہے اسی طرح چولستان میں سالہاسالوں سے آباد چولستانی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ،چولستان میں محکمہ امور حیوانات اور محکمہ صحت کی ڈسپنسریاں تو تعمیر کی گئی ہیں مگر آج تک عملہ موجود نہ ہے ان لاکھوں روپئے کی عمارتوں میں یاتوبکریاں بندھی ہیں یاپھروہاں پر لوگوں نے قبضے کر رکھے ہیں عملہ گھربیٹھے تنخواہیں لے رہا ہے ،چولستان میں تعلیم کا فقدان ہے ،اسکول نہ ہونے سے بچے تعلیم سے محروم ہوکر مویشی چرانے پر مجبور ہیں ،،بہت جلد چولستان کے بارے میں مذید انکشافات سامنے لائے جارہے ہیں،