Monday, October 26, 2015

زلزلے سے پاکستان میں ہلاکتیں 206 ہوگئیں 1300 سے زائد زخمی

پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پیر کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 206 تک پہنچ گئی ہے جبکہ کم سے کم 1381 افراد کے زحمی ہونے کی اطلاع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ زلزلے سے شاہراہ قراقرام پانچ مقامات پر بلاک ہو گئی ہے۔
سب سے زیادہ نقصان اب تک صوبہ خیبر پختونخواہ میں ہوا ہے جہاںمرنے والوں کی تعداد 160 سے تجاوز کر گئی ہے۔۔ اس کے بعد فاٹا سے کم سے کم 30 افراد کی ہلاک کی اطلاع ہے۔
ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.5 تھی اور اس کا مرکز ہندو کش کا پہاڑی علاقہ ہے جو کہ ڈسٹرکٹ جرم کے جنوب مغرب میں 45 کلومیٹر دور واقع ہے۔
پاکستان کے زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلہ پاکستانی وقت کے مطابق 2:09 منٹ پر آیا۔ زلزلے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں کچے مکانات منہدوم ہو گئے ہیں۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پرویز خٹک نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں ہونے والے نقصان کے متعلق معلومات اکھٹی کر ر ہے ہیں۔ وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کے صوبے پنجاب کے ریسکیو ذرائع کے مطابق صوبے میں زلزلے کے نتیجے میں پانچ ہلاک اور67 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی سے گفتگو میں ادارے کے ترجمان عادل ظہور نے بتایا کہ اب تک موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں اور نقصانات باجوڑ ایجنسی میں ہوئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ باجوڑ میں 26 افراد ہلاک ہوئے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو فون کیا ہے اور زلزلے میں ہونے والے نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
مودی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ نواز شریف سے ٹیلفونک بات چیت میں انھوں نے زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور بھارت نے پاکستان کو ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔
Image copyrightEPA
Image captionپشاور شہر کے مختلف علاقوں سے نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں
زلزلے میں ہلاکتیں
خیبر پختونخوا162 ہلاک1217 زخمی
گلگت بلتستان8 ہلاک29 زخمی
قبائلی علاقے30 ہلاکزخمی59
پنجاب5 ہلاک67 زخمی
مجموعی ہلاکتیں2061381
اب تک ملنے والے تفصیلات کے مطابق زلزلے سے سب سے زیادہ تباہی خیبر پختونخوا کے علاقے میں ہوئی ہے لیکن پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بھی شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
بی بی سی کے پشاور میں نامہ نگار کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مکانات کے نقصان اور منہدم ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
پاکستان کے صوبے گلگت بلتسان کے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ہنزہ اور نگر کے علاقے میں زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرے ہیں۔
پاکستان فوج کے ترجمان عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آنے والے زلزلے کے بعد فوج، اور ہیلی کاپٹر حرکت میں آگئے ہیں جبکہ سی ایم ایچ ہسپتال اور ماہر امدادی کارکنوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
Image copyrightEPA
Image captionپشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں بڑی تعداد میں زخمیوں کو لایا جا رہا ہے

Saturday, October 24, 2015

خانہ بدوشوں کی بستی صحراء چولستان روپورٹ ایم اقبال انجم سے

چولستان کے خانہ بدوش

ایم اقبال انجم سے

اس سے قبل جن بستیوں کا ذکر آیا ہے ان کے علاوہ کچھ اور بستیاں مستقل حیثیت اختیار کرچکی ہیں اور یہاں رہنے والے بھی مستقل ہیں۔ لیکن بہت سے ٹوبے اور بستیاں غیر مستقل ہیں ان بستیوں کے لوگ وقتی طور پر کسی ٹوبے کے نزدیک جھگیاں لگا لیتے ہیں مگر جب پانی ختم ہوجاتا ہے تو کسی اور ٹوبے کی طرف ہجرت کرجاتے ہیں۔ ان ٹوبوں میں سے کچھ کے نام ہیں اور کچھ بے نام ہیں اور میرے خیال میں چولستان کے یہی لوگ چولستان کی ثقافت اور رسم و رواج کے اصل مالک ہیں جو کسی جگہ مستقل قیام نہیں کرتے بلکہ پورے چولستان میں گھومتے رہتے ہیں۔ وہ اب بھی شہری اور صنعتی زندگی سے بچے ہوئے ہیں اور اپنی قدیم رسموں اور ورثے کے محافظ ہیں۔ عورتوں اور مردوں کے لباس روایتی اور خاص چولستانی ہیں۔ بھیڑیں، گائیں اور اونٹ پالتے ہیں۔ انہوں نے اپنے جانوروں کو ایسی عادت ڈال رکھی ہے کہ وہ ہفتے میں صرف ایک مرتبہ پانی پیتے ہیں۔ ان میں زیادہ بلوچ، راجپوت، در سلے ہیں۔ یہ لوگ بارش کے لیے دعا مانگتے رہتے ہیں کیوں کہ بارش ہونے سے چولستان میں بہار آجاتی ہے، بوٹیاں سر سبز ہوجاتی ہیں اور جانوروں کے لیے پانی اور چارہ وافر مقدار میں فراہم ہوتا ہے۔ بارش کے بعد وہ گھاس خوب اُگ آتی ہے جو خس کی ٹٹیاں بنانے کے کام آتی ہے جسے یہ لوگ اپنی جھونپڑیاں بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ چولستان کے عام لوگوں کی طرح یہ خانہ بدوش بھی اپنے جانوروں کے گلے میں بڑے بڑے ٹل اور گھنٹیاں باندھتے ہیں اور انہیں چرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے جانور چرنے کے بعد خود بخود واپس آجاتے ہیں۔ ایک شخص نے مجھے بتایا کہ گھنٹیوں کی بے شمار آوازوں میں سے وہ اپنی گائے کے گلے میں پڑی ہوئی گھنٹی کی آواز پہچان لیتا ہے۔ ان لوگوں کی زبان خالص سرائیکی اور سرائیکی ملی مارواڑی بھی ہے۔ عام خانہ بدوشوں کی طرح وہ بھی ڈرے ڈرے اور سہمے ہوئے رہتے ہیں۔ کسی شہری بابو کو دیکھ لیں تو ان کی مسکینی کود کر چہرے پر بیٹھ جاتی ہے اور کچھ دیر بعد بے چینی سی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ لوگ چولستان کرافٹس کے اصل مالک ہیں۔ مستقل رہائش رکھنے والوں نے ان کرافٹس کو کمرشل سطح پر اپنا لیا ہے لیکن چولستان کے خانہ بدوش ذاتی استعمال کے لیے چیزیں بناتے ہیں جن میں اونٹ کے بالوں کی فلاسیں، لوکاریں اور اونٹوں کی سجاوٹ کا سامان شامل ہے اس کے علاوہ یہ لوگ اونٹ کی کھال سے گھی رکھنے کے کپے بھی بناتے ہیں۔

پیاسوں کا قبروستان صحراء چولستان رپورٹ ایم اقبال انجم سے




چولستانی روہیلوں کا سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے۔ چولستان کے کنوﺅں کا پانی کھارا ہونے کی وجہ سے انسانوں اور مویشیوں کے پینے کے قابل نہیں ہوتا۔ پانی کی قلت دور کرنے کیلئے چولستانی ٹوبوں میں پانی جمع کرلیتے ہیں جہاں سے وہ اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں لیکن ان ٹوبوں کاگندا پانی ان کی جوانیاں چاٹ جاتا ہے کیونکہ ایک ہی ٹوبے پر مال مویشی پانی پیتے ہیں اور وہی پانی انسان بھی استعمال کرتے ہیں۔ چولستان میں لوگ راستہ بھٹکنے کی وجہ سے بھوک اور پیاس سے مر جاتے ہیں۔ چولستان میں بے شمار پیاسوں کی قبریں موجود ہیں۔ ہلاک ہونے والے پہلے راستہ بھول جاتے ہیں اور پھر بھٹکنے کے دوران اپنی چھاگل کا پانی صرف کر بیٹھتے ہیں۔ چولستانی مسافروں کا یہ دستور العمل ہے کہ سفر پر جانے سے پہلے راستے میں اگر پیاسے کی قبر پڑے تو اس پر پانی ڈالتے ہیں۔ اس عمل سے ان کا خیال ہے کہ ایک تو پیاس سے مرنے والا باآواز بلند پانی نہیں مانگے گا اور دوسرا ان کا سفر عافیت سے طے ہوگا اور راستے میں پانی کی تنگی نہ آئے گی۔ دراوڑکے اطراف میں ایسے 13 پیاسو ں کی قبریں موجود ہیں۔ جب کوئی چولستانی راستہ بھولنے کی وجہ سے اس المیے سے دوچار ہو کر لاچار ہو جائے یعنی نہ تو اس کا احساس ہمت بحال ہو اور نہ ہی کوئی مددگار پانی لے کر پہنچے تو وہ اپنے تن کے کپڑے پگڑی اور جوتے قریب کی جھاڑی پر ڈال دیتا ہے اور خود کسی جھاڑی کے سائے میں عریاں لیٹ کر ریت کے نیچے سے ٹھنڈی ٹھنڈی مٹی نکال کر سینے پر ڈالتا ہے۔ صحرا میں نگاہ میلوں دور تک چلی جاتی ہے اس لئے عام حالات میں پانچ چھ میل سے بآسانی کپڑے جوتے اور پگڑی کو جھاڑی پر آویزاں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی دوسرا چولستانی یہ دیکھ لے تو سمجھ جاتا ہے کہ کسی کی جاں خطرے میں ہے اور فوراً اس کی طرف مدد کیلئے لپکتا ہے۔ سمجھدار اور باخبر چولستانی سفر پر روانہ ہونے سے پہلے خوشبودار صحرائی گھاس ”قطرن“ کی جڑیں چھاگل میں ڈال دیتا ہے تاکہ تروتازہ رہیں، چھاگل کو رسیوں سے باندھ کر گردن میں لٹکا لیا جاتا ہے۔ پانی ختم ہونے کی صورت میں ”قطرن“ کی جڑیں پیاس کی حالت میں چوسنے سے پیاس بجھ جاتی ہے۔ یہ جڑ اس لحاظ میں بڑی کارآمد ہے کہ اس کو مستقل منہ میں رکھنے سے راہ چلتے مسافر کی پانی کی پیاس بہت کم ہو جاتی ہے۔ تاہم پانی، پچاس اور دریا چولستانیوں کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ صدیوں پہلے جو مسائل صحرا نشینوں کو درپیش تھے آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ان کے مسائل ویسے کے ویسے اور کوئی پرسان حال نہیں۔ ایک چولستانی کے مسائل کے بارے میں اس سے بہتر کوئی اظہار نہیں کہ میں تسا میڈی دھرتی تسی تسی روہی جائی میکوں آکھ نہ پنج دریائی (اسلم جاوید) (اے دوست میری طرح میری دھرتی بھی پانی کی پیاس سے نڈھال ہے۔ تو مجھے پانچ دریاﺅں کا مالک کہہ کر نہ پکار)

Friday, October 23, 2015

ر پریس کلب جھنگ سینئر صحافی مظفر اقبال دل کا دورہ پڑنے سے انتقال فرما گئے۔

جھنگ( صاحبزادہ زاکررحمان) ممبر پریس کلب جھنگ سینئر صحافی مظفر اقبال دل کا دورہ پڑنے سے انتقال فرما گئے۔اُن کی نمازِ جنازہ لولہے شاہ قبرستان

میں ادا کی گئی جس میں فوٹو گرافرز الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے نمائندوں کی کثیر تعداد کے علاوہ شہریوں ،وکلاء، مختلف تنظیموں کے عہدیداروں ،عزیز و اقارب ،دوست احباب سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد نے شرکت کی ۔بعد ازاں انہیں ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔اُن کی رسمِ قل خوانی بروز اتوار 25اکتوبر کو 2بجے دوپہر مسجد نورِ سحر سیشن چوک میں ادا کی جائے گی۔ان کی نا گہانی وفات پر صدر جھنگ یونین آف جرنلسٹس رائے منظور احمد عابد اور چئیر مین پریس کلب لیاقت علی انجم نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کیا۔####

جھنگ میں یوم عاشور عقیدت واحترام سے مناجارہا ہے

جھنگ(صاحبزادہ زاکررحمان
)ضلع بھر میں یوم عاشور کے سلسلے میں جلوسوں اور مجالس کا اہتمام آج ہو گا،تاریخی جلوسوں اور مجالس میں شرکت کیلئے دور دراز کے شہروں سے لوگوں کی بڑی تعداد میں جھنگ آمد،یوم عاشور کے حوالے سے ضلع بھر میں 327 جلوسوں اور 700 کے قریب مجالس کا اہتمام کیا جا رہا ہے ،جنکی سیکورٹی کے فل پروف انتظامات اور ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو بر قرار رکھنے کیلئے پٹرولنگ پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکنیشن علی طاہر ،کمشنر فیصل آباد اور آر پی او فیصل آباد کا جلوسوں کے راستوں میں سیکورٹی انتظامات کو فعال اور متاثر کن بنانے کیلئے جھنگ میں خصوصی آمد۔جلوسوں اور مجالس کے باہر تعینات رضا کاروں کو ضلعی حکومت کی جانب سے موک ایکسر سائز اور کسی بھی نا خوشگوار واقع سے نمٹنے کیلئے خصوصی طور پر ٹریننگ بھی دی گئی ہے۔ ضلع بھر میں موجود الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے صحافیوں کی جانب سے انتہائی حساس جلوسوں کی کوریج بھی کی جائے گی۔ ضلع جھنگ ابتدائی دن سے فرقہ وارانہ فسادات میں صف اول میں شمار کیا جاتا ہے اسی وجہ سے یہاں ہمہ وقت اور خصوصی طور پر محرم الحرام کے ان ایام میں قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی متحرک نظر آتے ہیں اور شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بر قرار رکھنے کیلئے بہت سے مثبت اور ٹھوس اقدامات کئے جاتے ہیں ۔ صوبائی اور ڈویژنل گورنمنٹ سے سپیشل فورسز کے اہلکار بھی جھنگ میں خصوصی طور پر تعینات کئے جاتے ہیں۔حساس مقامات میں جھنگ سٹی جو کہ انتہائی قدیم شہر ہے اور کئی صدیوں سے آباد ہے سب سے حساس مانا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں سب سے زیادہ سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے جاتے ہیں ۔جھنگ سٹی میں یوم عاشور کے موقع پر 36 جلوس برآمد ہونگے جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے عصر تک دربار بابا شاہ کبیر میں اختتام پذیر ہونگے۔ اسی طرح لوگوں نے لائسنسی مجالس کے علاوہ اپنے گھروں میں بھی بھی چھوٹی جالس کا اہتمام کیا ہے ۔300 کے قریب چھوٹی بڑی مجالس کا شہر بھر میں اہتمام کیا جائے گا۔جھنگ سٹی کا حساس ترین جلوس تعزیہ ،علم،اور ذوالجناح کے ساتھ جھنگ سٹی روڈ تانگہ اڈہ چوک،ہاتھیوان چوک،دربار با با شاہ کبیر،ناصر چوک،مدینہ چوک ،شیریں چوک ،مسجد اہلحدیث ،باب عمر گیٹ ، ممنا گیٹ ،سبزی منڈی اور میلاد چوک سے ہوتا ہوا دوبارہ اپنے راستے پر دربار بابا شاہ کبیر پر اختتام پذیر ہوتا ہے جہاں عصر کے وقت ماتم،زنجیر زنی اور نوحہ خوانی کی جاتی ہے۔ جلوس کے دوران ذاکرین اور نوحہ خوان لحظہ بہ لحظہ نوحہ خوانی اور اشعار پڑھتے ہوئے جلوس میں شرکاء اور عزاداروں کا خون گرماتے ہیں اور واقع کربلا کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ان جلوس کے راستوں میں گھروں کی چھتوں پر بھی سیکورٹی اہلکار تعینات کئے جاتے ہیں اس کے علاوہ روٹ کے قریب 350 داخلی راستوں کو بھی سیل کر دیا جاتا ہے جن سے کسی بھی سواری یا وہیکل کا داخلہ ممنوع او ر نا ممکن ہوتا ہے۔ان جلوسوں کی سیکورٹی کیمروں اور رواں سال تو ڈرون کیمروں کی مدد سے بھی مانیٹرنگ کی جارہی ہے جنکو تھانہ سٹی جھنگ میں کمپیوٹر سیکشن اور ڈی پی او آفس کمپیوٹر سیکشن سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور تمام لوگوں پر کڑی سے کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات اور 2000 کے لگ بھگ سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی پر شہریوں نے ضلعی حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس بات کی امید ظاہر کی ہے کہ انشا ء اللہ رواں سال بھی شہر میں امن و امان کی صورتحا ل بر قرار رہے گی۔